آپ اک بار مرے گاؤں میں گر آجائیں
جتنے ہیں بانجھ شجر سب پہ ثمر آ جائیں
تم نے اک بار بلایا ہی نہیں ہے ورنہ
ہم تو اک بار بلانے پہ ہی گھر آ جائیں
سر ہتھیلی پہ لیے پھرتے ہیں ہم اس دن سے
تم نے جس دن یہ پکارا تھا کہ سر ! آجائیں
پہلا دن جامعہ کا خالی نہ تھی کوئی نشست
پھر کسی نے یوں بلایا تھا : ادھر آجائیں
